دیوبند کے پیر میں اللہ

کیا یہ بھی شرک نہیں
دیوبندی حکیم الامت اشرف علی تھانوی اپنی کتاب ملفوظات حکیم الامت میں فرماتے ہیں کہ حضرت یزید بسطامی نے ایک دفعہ فرمایا سبحانی ما اعظم شانی مریدوں نے عرض کیا حضرت یہ آپ نے کیا فرمایا ؟ فرمایا کہ اگر میں ایسا کہتا ہوں تو واقعی کفر ہے اب اگر ایسا کہوں تو مجھے قتل کردینا ،اگر دوکاندار ہوتے تو ایسی بات کی اجازت فرماتے کیا دوکاندار شخص ایسا کرسکتا ہے مرید بھی ایسے ہوتے تھے کہ زرا کوئی بات شیخ کی خلاف شریعت دیکھی فورا امر بالمعروف کردیا ۔ آج کل کی سی حالت نہیں تھی کہ ایسے الفاظ سے اور مریدین کا اعتقاد بڑھتا ہے۔ غرض یہ کہ مریدین نے چھریاں تیار کرلیں پھر غلبہ طاری ہوا اور سبحانی ما اعظم شانی زبان سے نکلا مریدین نے چہار طرف سے چھریاں مارنا شروع کریں اب تماشہ یہ ہوا کہ جس مقام پر شیخ کےجسم پر چھری مارتے ہیں لوٹ کر اسی جگہ اپنے جسم پر چھری لگتی تمام مریدین زخمی ہوگئے شیخ کو افاقہ ہوا تو دیکھا تمام زمین پر پڑے تڑپ رہے ہیں دریافت فرمایا یہ کیا ہوا عرض کیا گیا کہ واہ حضرت اچھی تدبیر بتائی ہمکو تو ہلاک ہی کیا ہوتا اور سب قصہ بیان کیا ، فرمایا اگر یہ بات ہے تو بس معلوم ہوا کہ میں نہیں کہتا کوئی اور کہتا ہے جس پر کوئی حملہ نہیں کرسکتا پھر اسکی نظیر آیت سے بیان کی حضرت موسی علیہ السلام جس وقت اپنی بیوی کو لیکر چلے اور وہ کوہ طورکے قریب منزل پر آئےاور آگ کی ضرورت ہوئی تو ایک درخت پر آگ کو دیکھاآپ آگ لینے گئے تو اس درخت میں سے آواز آئی کہ ان یموسی انی انا اللہ رب العالمین تو کیا وہ ندا درخت کی تھی سو جب ایسی آواز درخت میں پیدا ہوسکتی ہے تو اگر منصور اور بایزید میں ہوجائے جو درخت سے کہیں زیادہ مظہر ہے تو اس میں عجب کیا ہے۔ (ملفوظات حکیم الامت صفحہ ۲۸۲)