Select Number of records per page:
  


 33  کل تعداد


 Name City Catagory Question Answer
 umair Gujranwala متفرق  میرا سوال یہ ہیکہ تابعین اور تبع تابعین کا دور کب تک تھا؟  Not Reply Yet
 MFaisal Baglore عورتوں کے مسائل  محترم جناب میرا سوال یہ ہیکہ انڈیا میں عیدگاہ میں عورتوں کیلئے نماز کا انتظام نہیں ہوتا ایسی صورت میں کیا عورتیں گھر پر عید کی نماز ادا کرسکتی ہیں؟  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 1 ہجری میں نماز عیدین کو مشروع قرار دیتے ہوئے فرمایا ﴿ ھذا عیدنا اھل الاسلام﴾ صحیح البخاری ، نیز مردوں اور عورتوں کو میدان عید میں جانیکا حکم صادر فرمایا حضرت ام عطیہ کا بیان ہے کہ ﴿امرنا ان نخرج العواتق والحیض فی العیدین﴾ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ کنواریاں اور حیض والیاں سب عید گاہ آئیں تاکہ خیر اور مسلمانوں کی دعاوں میں شریک ہوسکیں البتہ حیض والیاں صفوں سے الگ ہو کر بیٹھی رہیں یعنی وہ نماز نہ پڑھیں ۔ متفق علیہ ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں اور بیٹیوں کو بھی عید گاہ لے جاتے تھے۔ رواہ ابن ماجہ و البیہقی۔اسلام میں اصل یہ ہیکہ میدان عید میں تمام مرد و بچے اور عورتوں کی حاضری ہو تاکہ رب العالمین کی رحمتوں و برکتوں اور مغفرتوں سے کوئی بھی مسلمان محروم نہ رہے۔ اسی لئے احادیث میں بکثرت سب کو حکما حاضری کیلئے تاکید کی گئی ہے۔ لیکن بوجہ مجبوری مرد و عورتوں میں سے جو بھی حاضر نہ ہوسکے تو وہ اپنے گھر میں ہی نماز عید ادا کرسکتا ہے جیسا کہ امام بخاری علیہ الرحمہ نے باب منعقد کیا ہے ﴿باب، اذا فاتہ العید یصلی رکعتین و کذالک النساء ومن فی البیوت والقریٰ﴾ یعنی اگر کسی کو عید کی نماز باجماعت نہ ملے تو اکیلے دو رکعتیں پڑھ لے، عورتیں بھی، تمام گھر والے اور گاوں والے بھی ایسا ہی کریں۔ لہذا سب سے پہلے مسلمانوں کی کوشش ہونی چاہیے کہ عید گاہ میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کیلئے بھی انتظامات کئے جائیں جو سنت سے ثابت ہے۔ اور اگر قریب کی عید گاہ میں عورتوں کا انتظام نہ ہو تو بعید کی عید گاہ جہاں یہ انتظام ہو اور وہاںجانا ممکن بھی ہو تو وہیں پر عید کی نماز پڑھنی چاہیے اور اگر مذکورہ صورتوں میں سے کچھ بھی ممکن نہیں تو عورتیں گھر میں ہی نماز عید ادا کرسکتی ہیں البتہ کسی بڑے گھر یا حویلی میں جمع ہو کر مسلمان مرد کی امامت میں نماز عید ادا کرنا بہتر ہوگا۔اور یہ عمل یقینا انفرادی کیفیت سے اعلی و افضل ہوگا جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے سب گھر والوں اور بیٹوں کو زاویہ میں جمع کرواکر انہیں عید کی نماز پڑھائی، بحوالہ صحیح بخاری ۔ ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب
 waqar karachi متفرق  ۔ کیا اسلام میں متعہ کی کوئی گنجائش ہے کیا قرآن میں متعہ کو جائز قرار دیا گیا ہے ؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۷ ہجری میں متعہ کو حرام قرار دیا اسکی دلیل مل سکتی ہے؟ اور کیا لڑکی اپنی مرضی سے شادی کرسکتی ہے کورٹ میں مجسٹریٹ کے سامنے؟وقار ، کراچی  اسلام میں متعہ کی اب قطعا کوئی گنجائش نہیں ہے صرف شروع اسلام میں واقعہ جنگ خیبر سے قبل متعہ حلا ل تھا پھر حرام قرار دے دیا گیا اور دوسری مرتبہ فتح مکہ والے سال جنگ اوطاس میں اجازت دی گئی اور تین یوم بعد حرام قرار دے دیا گیا ۔ امام مسلم علیہ الرحمہ نے باب منعقد کیا ہے ﴿باب النکاح المتعہ﴾ حضرت سبرة الجھنی فرماتے ہیں ﴿امرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالمتعة عام الفتح حین دخلنا مکة ثم لم نخرج منھا حتی نھانا عنھا﴾ رسول اللہ صلی اللہ نے عام الفتح کے موقع پر دخول مکہ کے بعد متعہ کی حلت کا حکم صادر فرمادیا تھا پھر واپسی مکہ سے قبل ہی منع فرمادیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں متعہ کیلئے اجازت دی تھی اور اب اللہ نے قیامت تک کیلئے متعہ کو حرام قرار دے دیا ہے متعہ کیلئے تم نے کسی عورت سے اگر معاہدہ کیا ہوا ہے تو وہ ختم کردے اور ان کو دیا ہو ا سامان واپس نہ لے۔ تمہارے آج کے دن سے قیامت تک کیلئے متعہ حرام ہے۔ یہ تمام روایات صحیح مسلم کے مذکورہ باب میں ہیں ج نمبر ۹ شرح النو وی۔ تمام صحابہ کرام بالخصوص خلفاء راشدین رضوان اللہ علیھم اجمعین ، نیز اصحاب الحدیث اور علماء امت کا مذکورہ احادیث کی روشنی میں یہی فیصلہ ہے ۔﴿اجماع امت ہے﴾ کہ متع ہمیشہ کیلئے حرام ہے۔ البتہ بعض وہ صحابہ کرام جنہیں حرمت کا علم نہ ہوسکا تھا وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت تک متعہ کو جائز سمجھتے رہے لیکن ان کے بارے میں امیر المومنین کو جیسے ہی علم ہو ا تو آپ نے انہیں سختی سے منع فرمادیا لہذا خلیفہ اول کے دور میں لاعلمی کی وجہ سے متعہ کو حلال سمجھنے والے ایک آدھ صحابہ خلیفہ ثانی کے حکم پر حرمت متعہ کے قائل ہوگئے جیسا کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ﴿ کنا نستمتع۔۔۔۔ حتی نہیٰ عنہ عمر۔۔۔ وفی الروایة قال فلم تعدلھا﴾ صحیح مسلم شرح نووی جلد ۹ صفحہ 184، باب ماجاء فی نکاح المتعة۔ یعنی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اور ابو بکر صدیق و عمر رضی اللہ عنھما کے عہد میں بھی متعہ کیا کرتے تھے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں منع کردیا تو ہم باز آگئے پھر ہم نے متعہ نہیں کیا۔ امام ترمذی علی الرحمہ فرماتے ہیں ﴿ عن ابن عباس قال اانما کانت المتعة فی اول الاسلام حتی اذانزلت الاٰیة﴿ الا علی ازواجھم او ماملکت ایمانھم﴾ قال ابن عباس فکل فرج سواھما فھو حرام﴾ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں متعہ اسلام کے عہد اول میں مشروع تھا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی تو وہ منسوخ ہوگیا لہذا زوجہ شرعیہ اور مملکہء شرعیہ کے علاوہ ہر طرح کی شرمگاہ سے استمتاع﴿متعہ﴾ حرام ہے۔ اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے یوم خیبر میں متعہ سے منع فرمادیا تھا ﴿صحیح بخاری باب غزوة خیبر حدیث نمبر 4216 مع فتح الباری جلد 7 صفحہ 481۔ متاخرین میں فرقہ غالیہ نے سورة النساء آیت نمبر24 سے غلط استدلال کرتے ہوئے متعہ کو مباح قرار دیا ہے جو درحقیقت اجماع صحابہ اور اجماع امت کے برخلاف ہے۔ بلکہ صحیح احادیث اور نص صریح کے بھی خلاف ہے۔ ھذاماعندی واللہ اعلم بالصواب۔
 Muhammad Hyderabad نماز  ۔کیا بدعتی کے پیچھے نماز ہوسکتی ہے، بدعتی سے مراد تبلیغی، دیوبندی یا بریلوی ہیں؟ محمد بن محفوظ، حیدرآباد  الحمد للہ والصلوة والسلام علی رسول اللہ وبعدہ إ صورت مسئولہ کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہیکہ نماز کیلئے ایسے امام کا انتخاب کرو جو تم سے بہتر ہو کیونکہ امام تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان ایک رابطہ ہے رواہ البیہقی ۳/۹۰۔ اگر کوئی امام کفریہ عقائد رکھتا ہے یعنی رسول وغیرہ کا عالم الغیب، حاضر و ناضر حاجت روا اور مشکل کشا مانتا ہے یا اللہ کی ذاتی صفات کا انکار کرتا ہے اور اللہ کو بذات و بنفسہ عرش پر مستوی نہیں مانتا اور اسکے عقائدمرجیہ، جہمیہ، معتزلہ، حلولیہ و اتحادیہ سے ملتے جلتے ہیں تو ایسے امام کے پیچھے نماز نہیں ہوتی بلکہ ہر ایسا کلمہ گو جو قرآن اور نبی کے فرمان کے واضح حکم و نص صریح کے مقابلہ میں کسی امتی کی بات کو مقدم کرتا ہے تو ایسے شخص کو امام نہیں بنانا چاہیے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں کسی اور کی اتباع کرےوہ موحدین ،قرآن و حدیث کے ماننے والوں کا امام نہیں ہوسکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ﴿صلو کما رایتمونی اصلی﴾ رواہ البخاری ۔یعنی نماز ایسے پڑھو جیسے تم نےمجھے ﴿نبی﴾ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہےلھذیٰ جو بھی نبی کے طریقہء نماز سے قصدا و عمدا روگردانی کرے اسکو اپنا امام نہیں بنایا جاسکتا۔ البتہ موحد و متبع سنت اگرچہ فاسق و فاجر بھی ہو اس کے پیچھے بوقت ضرورت و مجبوری نماز ادا کی جاسکتی ہے لیکن جو عقائد کے اعتبار سے بدعات و خرافات اور شرکیات کا مرتکب ہو اسے امام بنا درست نہیں ہوگا۔ ھٰذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب۔
 Ahmed Gujrat عقیدہ  رسول اکرم نے کونسی قبروں کو مٹانیکا حکم دیا بعض لوگ کہتے ہیں مشرکوں کی قبروں کو مٹانیکا حکم دیا اور دلیل کے طور پر کہتے ہیں کہ بخاری کی پہلی جلد سے حضرت خرجہ والی رویت پیش کرتے ہیں جس میں نبی کریم نے حضرت عثمان بن مغتون کی قبر خود بنائی تھی جو اونچی تھی ، خود بنی پاک کی قبر اونچی ہے ، وغیرہ کہتے ہیں ، قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں؟احمد گجرات  Not Reply Yet
 abdulbasit Gujranwala متفرق  السلام علیکم ، میں عربی زبان میں حرف ض کی آواز ﴿ایکسینٹ﴾ کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں؟ عبد الباسط ، گجرانوالہ  صورت مسئولہ کے مطابق یاد رہیکہ عربی زبان میں کل 29حروف ہیں اور تمام حروف کی صحیح ادائیگی کے مخارج و صفات بھی الگ الگ ہیں کہیں صفات لازمہ اور کہیں صفات عارضہ ، کہیں صفات متضادہ اور کہیں صفات متشابہ وغیرہ۔ حرف ﴿ض﴾ حروف مستعلیہ میں سے ایک حرف ہے اور ض کی ادائیگی کے وقت زبان کی جڑ کا تالو کی طرف اٹھنا ہے اسی طرح زبان کے دائیں و بائیں دونوں سائیڈ داڑھوں سے ٹچ ہو اور زبان کی نوک اوپر کی دانتوں کی جڑ سے ملا کر ض کی صحیح ادائیگی کی جاسکتی ہے ۔ یہ یاد رہیکہ اسے ﴿د﴾ کی آواز سے نہ بدلا جائے البتہ ض اور ظ مشبہ الصوت ہے اس لئے مفسرین و علماء فقہ اور علماء صرف و نحو و قراء حضرات ان دونوں حروف کے مشبہ الصوت ہونیکی بناء پر اس بات پر متفق ہیں کہ چونکہ یہ دونوں قریب المخرجین ہیں ﴿ض﴾ اول حافہء زبان و اضراس سے نکلتا ہے اور ﴿ظ﴾ زبان کی نوک و اطراف ثنائیہ سے ادا ہوتی ہے اور یہ دونوں حروف اقسام مجہورہ و مدخورہ مطبقہ سے ہیں اس لئے ایک کا دوسرے کی جگہ استعمال جائز ہے۔ مزید تفصیل کیلئے تفسیر کبیر، تفسیر اتقان، تفیسیر ستاری سورة الفاتحہ، تفسیر عزیزی ، تفسیر ابن کثیر، حاشیہ بیضاوی، احیاء العلوم للغزالی، ، فتح القدیر وغہیرہ۔ ھذاما عندی واللہ اعلم بالصواب۔
 hussain Karachi نماز  قیام نماز میں دونوں پیروں کے درمیان کتنا فاصلہ رکھنا چاہیے؟ دوران رکوع اگر سبحان ربی الاعلی پڑھ لیا جائےتو درست ہے یا غلط؟حسین، کراچی  Not Reply Yet
 shehzad karachi نماز  رکوع کے بعد ہاتھ باندھنا چاہیں یا چھوڑ دینا چاہییں؟قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں؟ شہزاد، کراچی  Not Reply Yet
 fahad Lahore نکاح  کیا عورت کا نکاح اسکے والد کی مرضی کے بغیر ہوسکتا ہے ؟ اور کیا والد بیٹی کی شادی اپنی مرضی سے بیٹی کی مرضی کے برخلاف کرا سکتا ہے؟ فہد، لاہور۔  اسلام ایک ایسا مکمل ضابطہ حیات ہے جو انفرادی اور اجتمای زندگی کے ہر مرحلے میں انسانی حقوق کی نشاندہی کرتا ہے جس پر عمل پیرا ہوکرزندگی کی خوشیوں کو سمیٹا جاسکتا ہے مرد و عورت کے ازدواجی زندگی سے متعلق اسلام نے ایک ضابطہ حیات دیا ہے جس میں بتایاگیا ہیکہ عورت کو بذات خود اپنا نکاح کرنیکی قطعا اجازت نہیں ہے بلکہ مرد و عورت کے مابین زندگی بسر کرنیکے معاہدہ﴿نکاح﴾ میں ولی کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ جبکہ کورٹ میرج میں اصل ولی غیر موجود ہوتا ہے ۔ اسلئے اسلام میں کورٹ میرج کی اجازت نہیں ہےبلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہیکہ ﴿لا نکاح الا بولی﴾ صحیح سنن ترمذی حدیث نمبر 879 وابو داود کتاب النکاح ، یعنی ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ، نیز ارشاد فرمایا کہ ﴿ایما امراة نکحت بغیر اذن ولیھا فنکاحھا باطل، فنکاحھا باطل﴾ ایضا 880۔ جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا وہ نکاح باطل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا کہ وہ نکاح باطل ہے۔۔۔ لھٰذی اس ضابطہ کی خلاف ورزی کرنے والے تمام عمر زناکاری کا ارتکاب کرتے ہوئے عذاب الٰہی کے مستحق ہونگے۔ قال علیہ السلام ﴿ولا تزوج المراة نفسھا فان الزانیة ھی التی تزوج نفسھا﴾ رواہ ابن ماجہ اور جو کوئی عورت ﴿ولی کے بغیر﴾ خود نکاح کریگی وہ زانیہ ہے۔ اگر ولی غلط جگہ پر اپنی بیٹی کا رشتہ کرنا چاہتا ہے تو حق ولایت ساقط ہو کر دوسرے قریبی رشتہ دار کی طرف منتقل ہوجائیگی اور اگر تمام سرپرست غلط رشتہ کیلئے اتفاق کرلیں ﴿جبکہ ایسا کم ہی ہوتا ہے﴾ تو صرف ایسی صورت میں مسلم عدالتی کاروائی کی جاسکتی ہے۔ ارشاد رسول ہیکہ ﴿ فالسلطان علی لمن لاولی﴾ رواہ الترمذی۔ جسکا کوئی ولی نہ ہو اسکا ولی حاکم ہوگا ۔ اور یہ عدالتی کاروائی طرفین کی مکمل جانچ و پڑتال کے صحیح نتیجہ کےبعد ہی ہونی چاہیے۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب۔
 Hussain Alipur متفرق  ۔میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا مشت زنی جائز ہے؟جبککہ حنفی کہتے ہیں کہ حرف المجازی اہل حدیث کی کتاب ہے اور اس کتاب میں اس کو جائز قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہیکہ اس میں کوئی حرج نہیں؟ اس بارے میں وضاحت کردیں؟حسین ، علی پور۔  Not Reply Yet
1 2 3 4 NEXT